By:  Fauzia Raza

"غصہ" انسان کو کمزور کر دیتا ہے، اور انسان کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہتا، یہاں تک کہ اسے اتنا ہوش بھی نہیں رہتا کہ وہ کہ کیا رہا ہے، اس کے آس پاس کون کھڑا ہے اور اس کی باتوں کے اثرات دوسروں پر کیا اثر ڈال رہے ہیں۔۔

"غصہ" کرنے والا انسان سب کچھ بھول کر صرف یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ وہ راہ راست پر ہے، جو وہ کر رہا ہے صحیح کر رہا ہے۔ وہ اپنی بات کو منوانے کی خاطر کچھ بھی کر سکتا ہے۔

"غصہ" انسان کو اپنی انا کی جانب بھی راغب کر رہا ہوتا ہے اور غصے میں آکر اپنےآپے سے باہر بھی ہورہا ہوتا ہے یعنی اپنی حدیں پار کر رہا ہوتا ہے۔۔

جبکہ قرآن تو ہمیں یہ سبق یاد دلاتا ہے کہ:

"آللہ تعالی حدوں سے گزر جانے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔"

 ان سب باتوں سے یہ نتیجہ نکلا کہ شیطان، انسان کا کھلا دشمن ہےاور وہ انسان کو غصے کے زریعے کمزور کر کے گناہ کرواتا ہے۔

  :علاج

أعوذ بالله من الشيطان الرجيم

1 Comment